Sunday, August 13, 2017

عربوں کی فتح سندھ کے تواریخی ماخذ

تاریخ ماضی کے حالات و واقعات سے واقفیت حاصل کرنے کا علم ہے، گذرے زمانے کے حالات و واقعات آنے والی نسلوں تک مختلف ذرائع سے پہنچتے ہیں جن میں سب سے اہم تاریخی کتب ہیں. محمد بن قاسم نے سن 94 ہجری میں دیبل کے قلعے پر قبضہ سے سندھ کی فتوحات کا آغاز کیا. ہزار اور تین سو سال بعد اس تاریخی واقعات سے واقفیت حاصل کرنے کا واحد ذریعہ عرب مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتابیں ہیں. یقینن مسلمان علما نے ابتدائی دور اسلام سے ہی کتابیں لکھنی شروع کی تھیں لیکن  تیسری صدی ہجری سے قبل لکھی گئی کوئی بھی کتاب محفوظ نہ رہ سکی، بعد میں لکھی گئی کتابوں میں ان کے حوالوں کی موجودگی سے ہی بس ان کا پتہ ملتا ہے.
 سندھ کے حوالے سے عرب فتوحات کی تاریخ کا سب سے بڑا اور قدیم ترین ماخذ صرف ایک ہی کتاب ہے جو چچ نامہ کے نام سے مشہور و معروف ہے.
 عرب تاریخ میں سب سے پرانے کتاب جو آج دستیاب ہیں ان میں  فتح سندھ کا تفصیلی احوال موجود نہیں ہے، بس کچھ سرسری سی معلومات اور چند روایتیں.. ان میں سب سے زیادہ معلومات البلاذری( وفات 280 ھ)کی فتوح البلدان میں ہے کہ جس نے ایک الگ باب فتوح السند کے نام سے اپنی کتاب میں مخصوص کی.
احمد بن داؤد الدینوری( وفات 282ھ) نے اپنی کتاب الاخبار الطول میں فتح سندہ کا سرسری سا احوال لکھا ہے.
 احمد بن ابی یعقوب اسحاق بن جعفر جو یعقوبی( وفات 284 ھ) نے اپنی کتاب تاريخ کبیر جو کہ تاریخ یعقوبی کے نام سے مشہور و معروف ہے، اس نے قدرے تفصیل سے محمد بن قاسم کی فتوحات سندہ کے بارے میں لکھا ہے اور محمد بن قاسم کے بعد چند عرب گورنروں کے بارے میں بھی معلومات لکھی ہے.
 ابوجعفر محمد بن جریر طبری( وفات 310ھ) نے اپنی مشہور کتاب تاریخ طبری میں فتح سندہ سے متعلق بس مختصر احوال پر اکتفا کیا ہے.
 لے دے کر ہمارے پاس بس ایک ہی کتاب چچ نامہ رہ جاتا ہے جو زمانہ چچ سے محمد بن قاسم تک سندھ کی زیادہ تفصیلی تاریخ جاننے کا واحد قدیم ماخذ ہے.
 چچ نامہ میں لکھی سندھ کی تاریخ کو حتمی اور مستند قرار دینے سے پہلے خود چچ نامہ کا تاریخی جائزہ لینا بھی ضروری ہے.
  اس کتاب کا اصل مسودہ عربی میں تھا جس کا مصنف  اور دور کتابت نامعلوم ہے.
 موجودہ کتاب اس عربی مسودے کا فارسی ترجمہ  پر مشتمل ہے جو کہ سن 613 ھجری میں علی کوفی نامی شخص نے کیا.
 خود علی کوفی ایک غیر معروف شخصیت ہے جس کی اس ترجمہ کے علاوہ کسی دوسری تالیف یا علمی تحقیق کا نشان نہیں ملتا.
 چچ نامہ کا قدیم ترین دستیاب قلمی  نسخہ سن 1064 ھجری کا ہے جو کہ پنجاب یونیورسٹی کے کتب خانے میں محفوظ ہے.
 چچ نامہ کی بنیاد پر ہی بعد تاريخ نویسوں نے سندھ کی مرتب کی ہے اور اس میں موجود حالات و واقعات کا تنقیدی اور تحقیقی جائزہ لیے بغیر جوں کا توں اپنی کتابوں میں  لکھتے گئے ہیں. نتیجہ کے طور پر  پوری اسلامی دنیا میں اپنے ظلم و ستم اور سفاکی کی وجہ سے مشہور معروف حجاج بن یوسف ثقفی یہاں کے مسلمانوں کی نظر میں ایک ھیرو اور نجات دہندہ تصور ہونے لگا اور سندھ کے غیر مسلم حکمران باوجود اپنی اسلام دوستی کے طرح طرح کی تہمتوں اور الزامات کی زد میں آکر سفاک اور ظالم کافر ٹھہرے. 

Saturday, August 12, 2017

بنوامیہ کی فتح سندھ کا مقصد تبلیغ اسلام یا کچھ اور؟ 1

مروج نصابی، سرکاری اور ایک خاص مکتبہ فکر کی من پسند تاریخ جو برصغیر پاک و ہند میں مشہور و معروف ہے، پڑہنے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ محمد بن قاسم کی فتح سے پہلے سندھ کے حکمران اور عوام اسلام اور انسانیت کے بدترین دشمن تھے اس لئے مسلم عرب حکمرانوں نے جذبہ اسلامی اور انسان دوستی سے مجبور ہوکر سندھ کو فتح کرکے اپنی حکومت میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا.
 یہ مروج تاریخ ایک عام قاری پر  کہ جس کا عقل و شعور  "ایمانی عقیدوں" کال کوٹھیوں میں قید ہوتا ہے، یقینن اثر انداز ہوتی ہے اور وہ بغیر چوں چراں کے اسے کفر و ایمان کی جنگ تسلیم کر لیتے ہیں، لیکن ایک حقیقت پسند، غیر جانبدار محقق  جب باریک بینی سے اس کا تنقیدی جائزہ لیتا ہے تو اس کے سامنے فتح سندھ کے حوالے سے مروج تاریخ کے اندر ایسے سینکڑوں شواہد سامنے آجاتے ہیں کہ انہیں کسی بھی پہلو سے فتح سندھ کے پیچھے تبلیغ اسلام کا مقصد نظر نہیں آتا. اس سلسلہ مضمون میں ہم اس مروج تاريخ کے اندر ہی موجود ان شواہد کو سامنے لانے کی کوشش کریں گے.
 اس سلسلے میں سب سے پہلے ہم اس مروج تاثر سے شروعات کرتے ہیں کہ سندھی اور عرب باالخصوص مرکز اسلام مکہ محمد بن قاسم کی فتح سندھ سے پہلے ایک دوسرے کے لئے اجنبی تھے اس لئے جب اسلام بلاد عرب میں قدم جمانے کے بعد حدود عرب سے باہر پھیلنا شروع ہوا تو عرب حکمرانوں کو سندھ میں بھی اسلام کی تبلیغ کرنے اور وہاں کے کافر لوگوں کو مسلمان بنانے کا نیک خیال پیدا ہوا، جسے عملہ جامہ پہنانے کے لیے سندھ فتح کرکے اسلامی سلطنت میں شامل کرنا ناگزیر تھا.
 اس تاثر کی نفی کے لئے خود عربوں کی تاریخوں میں کئی حوالے موجود ہیں جسے جان بوجھ کر نظرانداز کیا جاتا ہے یا پھر اپنے موقف کی کمزوریاں ظاہر ہونے کے خوف کے پیش نظر ان پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے. قبل از تاریخ کے دور سے ہی قدیم سندھ اور مشرق وسطٰی کی دو عظیم تہذیبوں عراق اور مصر سے قریبی تعلقات و آمدورفت کے ثبوت ماہرین کے نزدیک تصدیق شدہ ہیں. یہ انتہائی قدیم دور ہے کہ جب بلاد عرب میں انسانی آبادی کے آثار ہی ناپید یا خال خال ملتے ہیں. البتہ خلیج فارس اور بحر ھند و بحیرہ احمر کے کنارے کنارے بستیاں قائم تھیں جو آج کے سعودی عرب کے پڑوسی ممالک ہیں اور یمن، عمان بحرین ان میں نمایاں ہیں. ھند اور سندھ کے بہت سے قبائل اسلام سے صدیوں پہلے وہاں پہنچ چکے تھے اور عرب میں بھی ان کو اپنی اصل شناخت سے پکارا جاتا تھا. ان میں زط( جت)، سیابجہ/سبابجہ، احامرہ، مید، بیامرہ، سامرہ، تکاکرہ معروف ہیں( تاریخ ابن خلکان جلد 2) ان قبائل کا ذریعہ معاش زیادہ تر جانور پالنے پر ہوتا تھا جن میں اونٹ، بھیڑ بکریاں وغیرہ، فقہ حنفیہ کے امام ابو حنیفہ کا تعلق بھی قبیلہ زط( جت) سے تھا( تاريخ ابن خلکان جلد 2)
تکاکرہ ٹھاکر یا ٹھکر کی عربی میں بگڑی ہوئی شکل ہے.
 علامہ سلیمان ندوی کے بقول قبل از اسلام کے زمانے سے ہی سندھ اور عرب کے تاجروں کے آپس میں گہرے تعلقات تھے، عرب تاجر سندھ کی بندرگاہوں تک اپنا سامان لاتے اور یہاں سے سامال خرید کر مصر افریقہ اور یورپ کی بندرگاہوں تک پہنچاتے. کئی عرب تاجروں نے سندھ ھند میں مستقل رہائش بھی اختیار کرلی تھی.( سید سلمان ندوی، عرب و ہند کلا  تعلقات). عربستان میں سندھی تاجر اتنے زیادہ تھے کہ ایک عیسائی مصنف ڈاکٹر اولری کے مطابق قدیم عیسائی کتابوں میں عربوں کو سندھی لکھا گیا ہے.
علامہ جمال الدین مصری اپنی کتاب لسان العرب میں لکھتا ہے کہ "الزط جیل اسود من السند" زط( جت) سندھ کے کالے نسل کے لوگ ہیں. عرب کے تین مشہور بت لات، منات اور عزا کا تصور سندھ کے ہندوؤں کی معرفت عرب پہنچا. معروف سندھی محقق کاکو بھیرو مل آڈوانی کے بقول جب عرب میں کعبۃ اللہ بنا تو اس کا سب سے زیادہ طواف سندھیوں نے کیا. کعبے میں بت رکھ کر ان کی عبادت کرنے کی رسم سندھ سے عرب پہنچی. مکہ پرانے زمانے میں تجارت کا ایک بڑا مرکز تھا جس میں سندھی تاجروں بیٹھکیں بہت زیادہ تھیں.
 ان تمام شواہد سے ثابت ہے کہ عرب اور سندھ کے قدیم زمانے سے نہایت ہی قریبی تعلقات تھے. اس لئے یہ ناممکن بات ہے کہ عرب میں اسلام کی شروعات سے جس عظیم انقلاب کی شمع روشن ہوئی اس کی خبر ایک سؤ برس سے بھی زیادہ عرصے تک سندھ کو نہ ہوسکی.
 مروج تاریخ سے دوسرا تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ سندھ کے حکمران اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کرتے تھے اور ان کو اپنے لئے اور اپنے مذہب کے لئے خطرہ سمجھتے تھے.
 اس کے برعکس خود مسلمان تاریخ دانوں نے ہی اپنی کتابوں میں ایسے کئی حوالے لکھے ہیں کہ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ سندھ حکمران ابتداء اسلام سے ہی اسلامی تعلیمات کی دل سے قدر کرتے تھے بلکہ اپنے ملک میں آنے والے مسلمانوں کو عزت و توقیر  دینے میں  کوئی کسر رہنے نہیں دیتے تھے.

   اسلام کی ابتدا کے وقت سندھ پر رائے گھرانے کی حکومت تھی جو بدھ مت کے پیروکار تھے. معروف سندھی عالم دین مولانا محمد ھاشم ٹھٹوی اپنی بیاض میں ذکر کرتے ہیں کہ جب ھجرت کے بعد جب پیغمبر علیہ السلام نے ایران، روم اور حبش کے حکمرانوں کو دعوت اسلام کے خطوط بھیجے تھے تو اس کے ساتھ ہی سندھ کے حکمران کی طرف بھی آپ ﷺ نے دعوت اسلام کا ایک سندیسہ اپنے 5 اصحاب کے وفد کے ساتھ بھیجا تھا. یہ وفد سندھ کے شہر نیرون کوٹ پہنچا اور ان کی تعلیمات و تبلیغ کے نتیجے میں کئی مقامی لوگ مسلمان ہوئے. ان میں سے دو صحابہ کچھ عرصے کے بعد نو مسلم سندھیوں کی بڑی تعداد کے ہمراہ واپس مدینہ مبارک گئے جب کہ بقیہ 3 صحابہ  یہیں سندھ میں رہ کر اسلامی تعلیمات کا پرچار کرتے رہے. وہ یہیں سندھ میں دفن ہوئے.
 سن 1 ہجری میں راجا داہر کے باپ چچ نے سندھ کی حکومت حاصل کی، یوں سندھ پر رائے گھرانے کے بعد ہندو برہمن راج کا آغاز ہوا. اقتدار سنبھالنے کے فورن  بعد اپنی سلطنت کی حدود مضبوط کرنے کی خاطر راجا چچ دارالحکومت الور میں اپنے بھائی چندر کو اپنا نائب بنا کر شمال کے راجاؤں کو مطیع کرنے کے لئے لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے، سب سے پہلے دریائے بیاس کے جنوبی علاقے بھاٹیا( بابیا) کے علاقے میں پہنچا وہاں کے والی ایک خون ریز جنگ میں شکست کھا کر اسکلدہ بھاگ گیا. بھاٹیہ انتظام درست کرکے راجا چچ سکا اور ملتان کی طرف بڑھے. ملتان میں اس وقت رائے گھرانے کے آخری راجا سہاسی کا قریبی عزیز بجیراء حاکم تھا، سکا میں اس کا بھتیجا سہیول گورنر تھا. جب بجیراء کو چچ کے ارادوں کی اطلاع ہوئی تو اس نے اپنے بھتیجے سہیول اور اس کے چچازاد بھائی اجے سین نے لشکر جرار ترتیب دیکر چچ سے مقابلے کی تیاری کی. چچ تین مہینے دریائے راوی کے دوسرے کنارے رک کر دریا کی طغیانی اترنے کا انتظار کرتا رہا کیوں کہ وہ گرمیوں کا موسم تھا. آخر جب دریا میں پانی کم ہوا تو وہ دریا پار کرکے سیہول پر حملہ آور ہوا اور شدید لڑائی کے بعد سکا کا قلعہ فتح کیا، سیہول وہاں سے بھاگ کر ملتان پہنچا. چچ نے سکا پر اپنے ایک قابل اعتماد شخص عین الدین ریحان مدنی کو گورنر مقرر کرکے خود لشکر کے ساتھ ملتان روانہ ہوا.( حوالہ، تاریخ سندھ. اعجاز الحق قدوسی)
 سوچنے کی بات ہے کہ اس دور میں جب یہاں مسلمانوں کی آبادی نہ ہونے کے برابر تھی، اسلام نیا نیا شروع ہوا تھا، پیغمبر اسلام اپنے ہی قبیلے کی دشمنی اور مخالفت کا سامنا  کر رہے تھے، مدینے سے ہزاروں میل دور سمندر پار سندھ کا ھندو راجا اپنے ہزاروں ہم مذہب قریبی عزیزوں رشتہ داروں کو چھوڑ کر ایک اجنبی مسلمان شخص پر ہی اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتا ہے اور اسے ایک حساس اور اہم دفاعی قلعے پر اپنا حاکم مقرر کر رہا ہے. کیا ایسے انسان کو اسلام یا مسلمان دشمن قرار دیا جا سکتا ہے؟ 

Thursday, August 10, 2017

عربوں کی فتح کے وقت سندھ کتنی خوش حال تھی؟

سجستان کے شہر زرنج سے ملتان دو مہینے کی مسافت پر ہے، ملتان کو فرج بیت الذہب یعنی سنہری سرحد بھی کہتے ہیں کیوں کہ حجاج کے بھائی بن یوسف نے یہاں ایک گھر  کے اندر 40 بھارا سونا پایا تھا. اور ایک بھارہ 333 من کا ہوتا ہے. اسی بنا پر ملتان کو فرج بیت الذہب کہتے ہیں. فرج سرحد کو کہتے ہیں. سونے کے اس ذخیرے کا وزن 2397600 مشقال کے برابر تھا.

 ابن خرداذبہ. کتاب الماسلک والممالک سے اقتباس. 

ابن خرداذبہ. تیسری صدی ھجری کا ماہر جاگرافيدان.

ابن خرداذبہ کا نام عبیداللہ کنیت ابو القاسم ، باپ کا نام عبداللہ، دادا کا احمد اور پر دادا کا خرداذبہ تھا. اصل وطن خراسان ایران تھا، اس کے پردادا برامکہ کے ھاتھ پر اسلام لائے. ابن خرداذبہ  سن 211 ھجری میں پیدا ہوئے اور سن 300 ہجری میں وفات پائی، وہ ماہر جاگرافيدان تھے. عباسی خلیفہ معتمد کے زمانے میں اس وقت کے ایرانی صوبے " الجبال" کے محکمہ ڈاک اور خفیہ اطلاعات کے سربراہ بنائے گئے. ان کا شمار خلیفہ معتمد کے قریبی اور قابل اعتماد رفقاء اور مصاحبوں میں ہوتا ہے.
 ابن خرداذبہ نے کئی کتابیں تحریر کیں  مگر ان میں سے صرف ایک ہی کتاب "المسالک و الممالک" ہی محفوظ رہ پائی، جو عربی زبان میں جغرافیہ کی پہلی کتاب مانی جاتی ہے. اس کتاب کو مطبع بریل لیڈن نے 1889ع میں فرینچ ترجمہ کے ساتھ شایع کیا.
 اس کتاب میں بغداد سے مختلف ملکوں کی آمدورفت کے راستوں اور مسافتوں کے علاوہ دوسری تاریخی معلومات بھی درج ہے. اس کتاب میں ھندوستان کی بری و بحری راہوں اور یہاں کی مختلف ذاتوں کا بھی تذکرہ ہے. اگرچہ ابن خرداذبہ بذات خود کبھی ہندوستان نہیں آیا مگر اس کی عام معلومات کی بنیاد بطلیموس کا جغرافیہ اور خاص معلومات کا دارومدار اس کے محکمے کی سرکاری اطلاعات پر ہے.
 اس کے سرکاری عہدے کی وجہ سے اکثر تاجروں اور مسافروں سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں اس لئے اس کی یہ ذاتی معلومات ایک ہندوستانی سیاح کی معلومات سے کم درجہ کی نہیں ہے.
ابن خرداذبہ وہ پہلا  عالم ہے جس نے کولمبس کی دریافت سے صدیوں پہلے اپنی کتاب میں امریکہ کی نشاندہی "وق وق" کے نام سے، چین کے مشرق میں دور  سمندر پار کی ہے اور وق وق کے امارت کے حالات بتائے ہیں. 

سندھ اور سندھیوں کے حوالے سے ابتدائی عرب مسلمان مورخین کی رائے

عثمان عمرو بن بحر الکنانی البصری، المعروف بہ الجاحظ، پیدائش ، 160 ھجری. وفات، 255 ھجری مطابق 864 عیسوی.

عربی زبان کا مشہور اور بے مثل انشاپرداز، صاحب طرز ادیب، فلسفی اور متکلم تھا. وہ صورۃ کم رو لیکن ذہانت و جودتِ طبع میں بے نظیر تھا. تحریر و تقریر میں موتی بکھیرتا تھا. مسعودی کا بیان ہے کہ پہلے اور بعد کے لوگوں میں الجاحظ سے بڑا فصیح ادیب نہیں گذرا، ابو ہفام کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ علم و فن کا شائق میں نے کسی کو نہ دیکھا نہ سنا.
 الجاحظ چھوٹی بڑی دو سؤ سے زیادہ کتابوں کا مصنف کہ جن میں سے صرف 30 کتابیں ہی محفوظ رہ سکیں، اور عباسی سلطنت میں ادیبوں اور انشاپردازوں کا امام تصور کیا جاتا تھا. اس کی مشہور کتابوں میں "البیان والتبیین"، "کتاب الحیوان"، "کتاب التاج" اور کئی رسائل شامل ہیں. ابن خلدون نے اس کتاب "البیان والتبیین" کے متعلق لکھا ہے کہ ہماری درسگاہوں کے اساتذہ اسے فن ادب کی چار اہم اور امہات کتب میں شمار کرتے تھے.
بصرہ کا باشندہ ہونے کی وجہ سے ہندوستان سے بھی اس کے تعلقات تھے. چنانچہ" البیان والتبیین" میں اس نے ہندوستان کے اصول بلاغت چند سطریں اور ایک رسالہ میں ہندوستان کی بعض خوبیوں اور خصوصیتوں کا ذکر کیا ہے. یہ کتابیں مصر سے شائع ہوچکی ہیں.  سن 255 ھجری بمطابق 864 عیسوی میں اس کا انتقال ہوا.
اس کی موت کے بارے میں روایت ہے کہ مطالع کے کمرے میں کتابیں گرنے سے کتابوں کے نیچے دب جانے کی وجہ سے ہوئی.  وہ عربی کا سب سے قدیم مسلم مصنف ہے جس نے اپنی تصانیف میں ہندوستان کا تذکرہ کیا ہے.
 یہاں ان کے تصانیف سے ہند سندھ کے متعلق تذکرے پیش کئے جا رہے ہیں.

رسالہ فخر السودان علی البیضان.
 ھندوستان کے باشندوں کو ہم نے علم نجوم اور حساب میں بہت آگے پایا ہے، ان کا ایک خاص ہندی خط ہے اور طب میں بھی ان کا درجہ اونچا ہے. ان کی طب کے خاص اسرار ہیں اور سنگین بیماریوں کی خاص طور پر ان کے پاس دوائیں ہیں. مجسمے تراشنا، رنگین تصویریں بنانا جو محرابوں اور اس قسم کی دوسری چیزوں میں نظر آتی ہیں، ان کا خاص فن ہے. شطرنج ان کی ایجاد ہے جو ذہانت اور تدبیر کا بہترین کھیل ہے. ان کی تلواریں نہایت عمدہ اور  تلواروں کے کھیل سے ان کو بڑی دلچسبی ہے اور اس کو چلانے میں وہ بڑے ماہر ہیں. زہر کے اثر اور درد میں ان کی جھاڑ پھونک سے فائدہ ہوتا ہے. ان کی موسیقی دلکش ہے، ان کے ایک  ساز کا نام "کنکلہ" ہے، یہ کدو اور ایک تار کا ہوتا ہے، جو تنہا ستار کے تاروں اور جھانجھوں کا کام دیتا ہے. ان کے ہاں مختلف قسم کے ناچ رائج ہیں. ان کا ایک خط ہے جو لغات کے تمام حروف کا جامع ہے. اس کے علاوہ بھی کئی قسم کے خط ہیں. ان کی شاعری اور تقریروں کا کافی ذخیرہ ہے، ان کے یہاں طبی فلسفہ اور ادب کے فنونِ ہیں. ان ہی سے کتاب "کلیلہ دمنہ" لی گئی ہے. ھندوستانیوں میں اصابت رائے اور بہادری بھی ہے. ان میں جو خوبیاں اور خصوصیتیں ہیں وہ چینیوں میں نہیں پائی جاتیں. ان میں اصابت رائے اور خلال، مسواک کرنا، اکڑوں بیٹھنا، مانگ نکالنا، خضاب لگانا وغیرہ پسندیدہ عادتیں ہیں، خوبصورتی، تمکنی، خوشقامتی اور خوشبوئی وغیرہ سے بھی وہ آراستہ ہیں. ان خوشبوئون میں ان کی عود ہندی بطور مثال پیش کی جاتی ہے. ان ہی کے ملک سے عود ہندی بادشاہوں کے پاس آتا ہے، جس کی نظیر نہیں. ہندوستان فکر و نظر کا سرچشمہ ہے، ان کے منتروں سے زہر کا اثر ختم ہوجاتا ہے، علم نجوم کے اصل موجد وہی ہیں، لوگوں نے اس کو خاص طور سے ان سے حاصل کیا ہے. آدم علیہ السلام جب جنت سے اتارے گئے تو ان ہی کے ملک میں اترے، لوگوں کا بیان ہے کہ حبشیوں کے مفاخر میں ان کا حسن خلق اور خوش گلوئی ہے. لیکن یہ چیز تمہیں سندہ کی باندیوں اور عورتوں میں بھی ملے گی. اور وہاں کے لوگوں میں ایک وصف یہ بھی ہے کہ سندھی غلاموں سے بہتر پکانے والے نہیں ملتے. انہیں فطری طور پر کھانا پکانے کا ذوق ہوتا ہے. ھندوستان والوں کے لیے باعث فخر یہ بھی ہے کہ صراف اور روپئے کے کاروبار کرنے والے اپنی تھیلیاں اور خزانے صرف سندھیوں اور ان کی اولادوں کے سپرد کرتے ہیں، اسلئے کہ وہ سندھیوں کو سب سے زیادہ صرافہ کے کاموں میں ماہر اور قابل اطمینان اور ایماندار سمجھتے ہیں، روم و خراسان والوں کو کوئی اپنے خزانے کی کنجیاں نہیں دیتا، لوگ برکت کے لیے بھی سندھیوں کو خزانچی بناتے ہیں کیوں کہ بصرہ اور بربھارات بندر والوں نے جب دیکھا کہ فرج ابو روح سندھی نے اپنے آقا کے لئے بڑی دولت و جائداد پیدا کی ہے تو ہر شخص سندھی غلام خریدنے کی خواہش کرنے لگا.
  

Saturday, August 5, 2017

برصغیر میں ابتدائی اسلامی فتوحات. کابل کی فتح.

سن 44 ھجری میں امیر معاویہ بن ابوسفیان نے زیاد بن ابیہ کو بصرہ، خراسان اور سیستان کا حاکم مقرر کیا اور اسی سال زیاد کے حکم سے عبد الرحمان بن ربیعہ نے کابل کو فتح کیا اور اہل کابل کو حلقہ بگوش اسلام کیا. کابل کی فتح کے کچھ ہی عرصہ بعد ایک نامور عرب امیر مہلب بن ابی صفرہ مرو کے راستے سے کابل و زابل آئے اور ھندوستان پہنچ کر جہاد کیا. اور دس یا بارہ ہزار کنیز و غلام اسیر کئے، ان میں سے کچھ توحید و نبوت کا اقرار کر کے مسلمان ہوئے.
سن 53 ہجری میں زیاد کی انگلی میں طاعون کی پھنسی نکلی اور اس سے اس نے وفات پائی. امیر معاویہ نے اس کے بیٹے عبداللہ کو حاکم کوفہ مقرر کیا. کچھ عرصہ بعد عبداللہ نے ماوراء النہر کا عزم کیا اور اس ملک کے بہت سے شہروں کو فتح کرکے واپس آیا. اس فتح کے صلے میں اسے بصرہ کی حکومت ملی. لیکن اس نے اسلم بن زراعہ کو اپنی طرف سے خراسان کا حاکم بنایا اور خود کوفہ میں مقیم رہے. سن 50 ھجری میں خراسان کی حکومت امیر معاویہ نے سعد بن عثمان غنی رضی اللہ کے سپرد کی تھی. سن 63 ھجری میں یزید بن معاویہ نے مسلم بن زیاد کو سیستان اور خراسان کا حاکم مقرر کیا. جن لوگو کو یزید نے مسلم بن زیاد کے ہمراہ روانہ کیا ان میں مہلب بن ابی صفرہ بھی تھا. مسلم نے اپنے چھوٹے بھائی یزید کو سیستان کی حکومت سپرد کی. جب یزید بن زیاد نے یہ سنا کہ کابل کے بادشاہ نے سرکشی مسلمانوں کے حاکم ابو عبداللہ بن زیاد کو قید کرلیا ہے تو اس نے ایک لشکر جرار جمع کرکے اہل کابل سے جنگ کی. ایک زبردست اور شدید معرکہ آرائی ہوئی جس میں یزید کو شکست ہوئی اور اس کی فوج کا بڑا حصہ جنگ میں مارا گیا.
جب مسلم بن زیاد کو ان حالات سے آگاہی ہوئی تو طلحہ بن عبداللہ بن حنیف کو کہ جو " طلحہ الغلحاث" کے نام سے مشہور ہے،
کابل روانہ کیا. کابل پہنچ کر طلحہ نے 5 لاکھ درہم تاوان ادا کرکے ابو عبداللہ کو شاہ کابل کی قید سے آزاد کروایا. بعد ازاں مسلم نے سیستان کی حکومت طلحہ کو سونپی اور غور اور بادغیس کے باشندوں پر مشتمل ایک لشکر تیار کرکے کابل روانہ کیا اور اہل کابل کو زبردستی اپنا مطیع و فرمانبردار بنایا اور خالد بن عبد اللہ کو جسے بعض لوگ حضرت خالد بن ولید کی اولاد سے اور بعض ابوجھل کی اولاد سے بتاتے ہیں، حاکم کابل مقرر کیا.
جب خالد بن عبدالله کابل کی حکمرانی سے معزول ہوا تو اس نے عراق اور عرب واپس جانا مناسب نہیں سمجھا، نئے حاکم کے خوف سے کابل میں قیام بھی مشکل تھا. لہاذا اس نے اپنے بال بچوں اور متعلقین کو جو عربی النسل تھے ساتھ لیا اور شاہ کابل کی رہنمائی میں کوہ سلیمان پر اپنا ڈیرہ جمایا جو ملتان اور پشاور درمیان واقع ہے اور اپنی بیٹی کی شادی ایک شریف افغانی کے ساتھ کردی جو کہ مذہب اسلام اختیار کرچکا تھا. اس لڑکی کے بطن سے بہت سے لڑکے پیدا ہوئے جن میں سے لودھی اور سور  بہت مشہور اور ممتاز تھے. افغانیوں کے گروہ میں دو مشہور قبیلے لودھی اور سور انہی دو بھائیوں کی اولاد سے ہیں.

تاریخ فرشتہ. جلد اول. 

Saturday, December 3, 2016

Administrative Structure of Sindh



Sindh is divide in 7 administrative divisions, 29 Districts and 139 Talukas.

Divisions.
  1. Sukkur
  2. Larkana
  3. Shaheed Benazir Bhuto (Nawabshah)
  4. Mirpurkhas
  5. Hyderabad
  6. Bhanbore
  7. Karachi
Districts.

  1. Badin
  2. Sujawal
  3. Thatta
  4. Tando Muhammad Khan
  5. Hyderabad
  6. Matiari
  7. Tando Allahyar
  8. Jamshoro
  9. Dadu
  10. Karachi Central
  11. Karachi East
  12. Karachi West
  13. Karachi South
  14. Korangi Karachi
  15. Malir Karachi
  16. Mirpur Khas
  17. Sanghar
  18. Umer kot
  19. Tharparker
  20. Nawabshah (Shaheed Benazir abad)
  21. Naushahro feroz
  22. Khairpur
  23. Sukkur
  24. Ghotki
  25. Kashmore
  26. Jacobabad
  27. Shikarpur
  28. Larkana
  29. Qamber _ Shahdadkot
Note: Talukas are further divided into Cirles, Tapas and Dehs

About Sindh


Sindh is one of the four provinces of Pakistan, situated in the southeast of country. Sindh is the third largest province of Pakistan by area (140914 sq km) and second largest province by population ( 55245497 aprx) . Sindh borders the Indian states of Rajasthan and Gujarat in east and southeast, Arabian sea in south, Balochistan province in west and Punjab in north. 

Karachi, the largest and most populous city in Pakistan and 7th largest metropolitan city in the world is the capitol of Sindh. Sindh is Pakistan's economical hub. Sindh is home to a large portion of industrial sector. Sindh contains two of Pakistan's commercial sea ports, Port Bin Qasim and Karachi port.

Sindh is well known for its distinct culture which is strongly influenced by Sufism. Several important Sufi shrines are located throughout of Sindh, such as Shah Abdul Latif Bhitai of Bhit Shah, Lal Shahbaz Qalandar of Sehwan, Sachal Sarmast of Daraza, Sufi Shah Inayat Shaheed of Jhok shareef. Sindh is home to two UNESCO world heritage sites: The historical monuments at Makli and archaeological ruins of Mohen jo Daro.
Sindh province has historically been safe and the people are very hospitable, and the people tend to welcome any foreigner very warmly.